Marital Love: Why a Strong Husband–Wife Bond Is a Biological Need for Health
میاں بیوی کی محبت: ایک جذبہ نہیں، ایک حیاتیاتی ضرورت
✍️ ڈاکٹر جواد بھٹی
Love between husband and wife is not just an emotion—it is a biological and psychological necessity that directly shapes physical and mental health.
انسان صرف گوشت، ہڈی اور خون کا مجموعہ نہیں
وہ رشتے میں جینے والا ایک زندہ شعور ہے۔
اور میاں بیوی کا تعلق
انسانی زندگی کا سب سے گہرا،
سب سے اثر انگیز تعلق ہے۔
سائنس اب اس سچ کو تسلیم کر چکی ہے
جسے حکما اور فلاسفہ صدیوں سے جانتے تھے:
ازدواجی محبت جسم کی غذا ہے۔
جیسے پانی کے بغیر خلیہ مرجھا جاتا ہے
ویسے ہی شوہر اور بیوی کے درمیان
قربت، اعتماد اور توجہ کے بغیر
روح آہستہ آہستہ سوکھنے لگتی ہے۔
انسانی دماغ کی ساخت اس بات کی گواہ ہے
کہ ہم تنہائی کے لیے نہیں بنائے گئے—
خصوصاً ازدواجی تنہائی کے لیے نہیں۔
آکسیٹوسن اور ویسوپریسن
محض کیمیائی مادے نہیں،
یہ وہ فطری دستخط ہیں
جو شوہر اور بیوی کو
جذباتی اور جسمانی سطح پر
ایک دوسرے سے جوڑتے ہیں۔
یہ ہارمونز
ازدواجی اعتماد پیدا کرتے ہیں،
دل کی دھڑکن کو نرمی سکھاتے ہیں،
اور اعصابی نظام کو یہ پیغام دیتے ہیں:
تم اپنے شریکِ حیات کے ساتھ محفوظ ہو۔
ہومیوپیتھی کی زبان میں
یہ وہ لمحہ ہے
جب Vital Force
میاں بیوی کے درمیان
ہم آہنگ ہو جاتی ہے۔
ابتدائی ازدواجی محبت میں
ڈوپامین کا جوش
ایک چنگاری کی مانند ہوتا ہے—
مگر کامیاب شادی
آگ نہیں، حرارت ہے،
جو زندگی کو مسلسل گرم رکھتی ہے۔
تحقیقات بتاتی ہیں کہ
محبت اور احترام پر قائم شادی
بلڈ پریشر کو کم کرتی ہے،
نیند کو گہرا کرتی ہے،
یادداشت کو بہتر بناتی ہے،
اور قوتِ مدافعت بڑھاتی ہے۔
یہی وجہ ہے کہ
اچھی شادی بڑھاپے کے خلاف
فطرت کی خاموش دوا ہے۔
جب میاں بیوی کی محبت مجروح ہو جائے…
لیکن جب ازدواجی تعلق میں
خاموشی آ جائے،
جب اعتماد زخمی ہو،
جب ایک ہی بستر پر
دو لوگ جذباتی طور پر اکیلے ہو جائیں—
تو جسم احتجاج کرتا ہے۔
کورٹیزول بڑھ جاتا ہے،
دل بوجھل ہو جاتا ہے،
سانس میں گھٹن آتی ہے،
اور بعض اوقات
دل واقعی ٹوٹ جاتا ہے۔
Broken Heart Syndrome
جدید طب کی اصطلاح ہے،
مگر ہومیوپیتھی
اس حقیقت کو صدیوں سے جانتی ہے:
یہ وہ کیفیت ہے
جہاں Mind پہلے بیمار ہوتا ہے،
Body بعد میں۔
ازدواجی محبت کا فقدان اور ہومیوپیتھی
ہومیوپیتھی میں
میاں بیوی کے درمیان محبت کی کمی
محض جذباتی مسئلہ نہیں
بلکہ Vital Force کی بے سمتی ہے۔
ہر شریکِ حیات
اس محرومی کو
اپنے انداز میں جھیلتا ہے—
اور اسی انفرادیت میں
درست دوا پوشیدہ ہوتی ہے۔
💊 چند اہم ہومیوپیتھک اشارے (Guidance)
Ignatia Amara
— خاموش ازدواجی غم
— دبے ہوئے آنسو، ان کہی شکایات
— ایسا دکھ جو شریکِ حیات سے بھی نہ کہا جا سکے
Natrum Muraticum
— محبت کی کمی مگر وقار کے ساتھ
— اندر ٹوٹا ہوا شوہر یا بیوی
— جو کمزوری ظاہر کرنا بے عزتی سمجھے
Pulsatilla
— توجہ، قربت اور احساسِ موجودگی کی طلب
— نرمی، آنسو، اور بات سنے جانے کی خواہش
— جس کے لیے سنا جانا ہی شفا ہے
Sepia
— ازدواجی تھکن
— ساتھ رہتے ہوئے بے حسی
— محبت ہو مگر محسوس نہ ہو
یہ دوائیں
میاں بیوی کی محبت کا نعم البدل نہیں،
مگر محبت کی کمی سے
بگڑی ہوئی روحانی و اعصابی کیمیا
کو متوازن کر سکتی ہیں—
اگر درست انتخاب ہو۔
آخری بات
میاں بیوی کی محبت کا انتخاب
صرف دل کا معاملہ نہیں—
یہ صحت کا فیصلہ ہے۔
اور اس محبت کو سنبھالنا
محض اخلاقیات نہیں—
یہ طب ہے۔
آج کے تنہائی زدہ ازدواجی معاشرے میں
سب سے بڑی دوا
ایک محفوظ، سچا اور باوقار
میاں بیوی کا تعلق ہے۔
باقی دوا
ہم فطرت سے سیکھتے ہیں۔
Dr. Jawad Bhatti
Homoeopathic Physician
Aayan Homoeopathic Clinic, Burewala


Comments
Post a Comment