Chelidonium majus: A Classical Homeopathic Approach to Liver and Gall Bladder Disorders
Chelidonium majus:
جب جگر درد کے ذریعے سچ بولنے لگے
گزشتہ پوسٹ میں ہم نے Carduus marianus کا ذکر کیا تھا —
وہ دوا جو جگر کی خاموش کمزوری، تھکن اور حفاظتی مرمت کی نمائندہ ہے۔
Carduus وہاں کام کرتی ہے
جہاں جگر بوجھ تو محسوس کرتا ہے
مگر ابھی احتجاج نہیں کرتا۔
آج گفتگو جگر کی دوسری عظیم دوا پر ہے —
Chelidonium majus
اگر Carduus صبر ہے
تو Chelidonium اظہارِ درد ہے۔
Chelidonium majus: جگر اور پتّے کی فیصلہ کن دوا
Chelidonium majus ہومیوپیتھی میں اس مرحلے کی دوا ہے
جہاں جگر کی خرابی
محض کمزوری نہیں رہتی
بلکہ درد، رکاوٹ اور صفرا کی بندش کی صورت میں سامنے آتی ہے۔
یہ دوا جگر اور پتّے (Gall bladder)
کے اس بگڑے ہوئے توازن کو مخاطب کرتی ہے
جہاں اخراج رک جائے
اور جسم اندر ہی اندر دباؤ میں آ جائے۔
فلسفیانہ زاویۂ نظر
قدرت نے صفرا کو بہاؤ کے لیے پیدا کیا ہے،
اور جہاں بہاؤ رک جائے
وہاں درد جنم لیتا ہے۔
Chelidonium ہمیں یہ سکھاتی ہے کہ
بیماری اکثر جمود کا نام ہے،
اور شفا کا پہلا اصول
راستہ کھولنا ہے۔
اہم خصوصیات (Keynotes)
• جگر اور پتّے کی واضح بیماری
• صفرا کی رکاوٹ (Biliary obstruction)
• یرقان (Jaundice)
• Gallstones سے وابستہ علامات
دائیں پہلو کا درد جو:
→ دائیں کندھے
→ دائیں بازو
→ یا پشت تک پھیل جائے
یہ درد محض عضلاتی نہیں
بلکہ نظامِ اخراج کی پکار ہوتا ہے۔
وہ علامات جہاں Chelidonium لازمی انتخاب بنتی ہے
• دائیں پسلیوں کے نیچے گہرا، دباؤ والا درد
• درد کا دائیں کندھے یا اسکیپولا تک پھیلنا
• چکنی یا بھاری غذا کے بعد متلی
• زبان پر پیلا یا گاڑھا کوٹ
• پیشاب کا گہرا زرد رنگ
• جلد اور آنکھوں میں زردی
مریض کا واضح جملہ:
“دائیں طرف جیسے کچھ رکا ہوا ہے”
Carduus اور Chelidonium کا اصولی فرق
Carduus marianus
→ جگر کی خاموش کمزوری
→ خلیاتی حفاظت
→ Restorative دوا
Chelidonium majus
→ جگر کی فعال بیماری
→ صفرا کی رکاوٹ
→ درد اور اخراج کی دوا
یہ فرق تشخیص کی بنیاد ہے،
نہ کہ صرف نام کا۔
ہومیوپیتھک مقدارِ خوراک
(درست، اصولی اور کلاسیکل)
🔹 Chelidonium 30C
مقدار: 2 قطرے یا 2 گولیاں
تکرار: دن میں 3 مرتبہ
استعمال:
• Functional liver disorders
• ابتدائی یرقان
• ہلکی صفراوی رکاوٹ
• درد موجود ہو مگر شدید نہ ہو
🔹 Chelidonium 200C
مقدار: 2 قطرے یا 2 گولیاں
تکرار: دن میں 2 مرتبہ
استعمال:
• واضح درد
• Gall bladder involvement
• نمایاں صفراوی رکاوٹ
• وہ حالت جہاں علامات بول رہی ہوں
🔹 Chelidonium 1M
مقدار: 2 قطرے یا 2 گولیاں
تکرار: ہفتے میں ایک مرتبہ
استعمال:
• Chronic liver tendencies
• بار بار ہونے والی جگر و پتّے کی شکایات
• گہری عضوی سطح کی بیماری
اصولی یاد دہانی
طاقت جتنی بلند
تکرار اتنی محدود
اور مشاہدہ اتنا لازم
یہی اصول
ہومیوپیتھی کو دوا نہیں
نظامِ حکمت بناتا ہے۔
اختتامی فلسفیانہ تاثر
Chelidonium majus
جگر کی دوا نہیں،
بہاؤ کی دوا ہے۔
جہاں جمود ہو
جہاں دباؤ ہو
جہاں جسم درد کے ذریعے بات کرے
وہاں Chelidonium
راستہ کھولتی ہے۔
اور یاد رکھیں:
جسم جب بولتا ہے
تو ہمیں دوا سے نہیں
فہم سے سننا چاہیے۔
✍️ Written by
Dr Jawaad Bhatti
Homoeopathic Physician



Comments
Post a Comment