Chronic headache
دائمی سر درد
— جب سر نہیں، فکر دکھتی ہے —
سر درد صرف اعصاب کی چیخ نہیں ہوتا،
اکثر یہ خاموش ذہن کی بلند فریاد ہوتا ہے۔
وہ فریاد جو لفظوں میں نہیں ڈھلتی،
مگر کنپٹیوں میں دھڑکنے لگتی ہے۔
دائمی سر درد وہ کیفیت ہے جہاں
انسان کا سر نہیں،
اس کی زندگی بھاری ہو جاتی ہے۔
دائمی سر درد: ایک سطحی نہیں، وجودی مسئلہ
طبِ جدید اسے Chronic Headache کہتی ہے،
اور یوں بیان کرتی ہے کہ:
مہینے میں کم از کم پندرہ دن
اور تین ماہ یا اس سے زائد عرصہ
اگر سر درد ساتھ رہے
تو یہ دائمی سر درد ہے۔
مگر حقیقت اس تعریف سے کہیں آگے ہے۔
یہ صرف دنوں کا حساب نہیں،
یہ برسوں کے دبے ہوئے احساسات،
غیر کہی باتیں،
اور ٹوٹی ہوئی نیندوں کا مجموعہ ہوتا ہے۔
سر کیوں دکھتا ہے؟
1. جب ذہن تھک جائے
ذہن اگر مسلسل بوجھ اٹھائے —
ذمہ داریوں کا،
ناکامیوں کا،
اور دبی ہوئی خواہشوں کا —
تو وہ بوجھ آخرکار سر میں اتر آتا ہے۔
ایسے مریض اکثر کہتے ہیں:
“سوچیں رکتی نہیں، سر بھرا بھرا رہتا ہے”
یہ وہ سر درد ہے
جو گولی سے نہیں،
سمجھ سے ٹھیک ہوتا ہے۔
2. جب جذبات دب جائیں
جو آنسو آنکھوں سے نہ بہہ سکیں
وہ کنپٹیوں میں جم جاتے ہیں۔
خاموش غم،
دل کی ٹوٹن،
اور اظہار سے محرومی —
یہ سب دائمی سر درد کی جڑیں ہیں۔
اسی لیے بعض سر درد
چیخ کر نہیں،
سسک کر آتے ہیں۔
3. جب جسم اور روح کی ہم آہنگی ٹوٹ جائے
بے وقت نیند،
بے ترتیب غذا،
حرکت کی کمی،
اور اسکرین کا حد سے زیادہ استعمال —
یہ سب مل کر
انسان کو مشین
اور زندگی کو بوجھ بنا دیتے ہیں۔
پھر سر
صرف سر نہیں رہتا،
ایک دباؤ بن جاتا ہے۔
دائمی سر درد کی باطنی اقسام
ٹینشن ہیڈیک
جب زندگی حد سے زیادہ سنجیدہ ہو جائے
اور انسان خود کو مسلسل کھینچ کر رکھے
تو سر پر پٹی سی بندھ جاتی ہے۔
مائیگرین
یہ صرف درد نہیں،
یہ حساس روح کی بیماری ہے۔
روشنی چبھتی ہے،
شور تکلیف دیتا ہے،
کیونکہ اندر پہلے ہی بہت ہنگامہ ہوتا ہے۔
سائنَس ہیڈیک
جب جسم کہتا ہے:
“مجھے صاف ہونے دو”
اور ہم سنتے نہیں۔
ہومیوپیتھک فلسفہ: سر درد کیا بتاتا ہے؟
ہومیوپیتھی کے نزدیک
سر درد کوئی دشمن نہیں،
یہ جسم کا پیغام ہے۔
پیغام یہ کہ:
کہیں توازن بگڑا ہے،
کہیں جذبات رُکے ہیں،
کہیں فطرت سے دوری ہے۔
اسی لیے دوا
درد کے نام پر نہیں،
انسان کے حال پر دی جاتی ہے۔
چند علامتی ہومیوپیتھک تصویریں
Belladonna
جب درد طوفان بن کر آئے
اور انسان خود پر قابو نہ رکھ سکے۔
Natrum Muriaticum
جب غم پرانا ہو
اور آنسو اکیلے بہائے جاتے ہوں۔
Ignatia Amara
جب دل ٹوٹا ہو
مگر ہونٹ مسکرا رہے ہوں۔
Bryonia
جب زندگی بوجھ لگنے لگے
اور حرکت تکلیف دینے لگے۔
Nux Vomica
جب انسان خود سے زیادہ
زندگی کو کنٹرول کرنا چاہے۔
⭕ یہ دوائیں نام نہیں،
مزاج مانگتی ہیں۔
خود علاج نہیں،
فہمِ انسان ضروری ہے۔
طرزِ زندگی — اصل علاج
وقت پر نیند
سادہ غذا
جذبات کا اظہار
خاموشی سے دوستی
اور خود پر رحم
یاد رکھیں:
ہر سر درد دوا نہیں مانگتا،
کچھ سر درد سمجھ مانگتے ہیں۔
کب خطرے کی گھنٹی بجتی ہے؟
اگر سر درد کے ساتھ
اچانک شدید شدت،
نظر یا بولنے میں دشواری،
ہاتھ پاؤں میں کمزوری،
یا بخار و قے ہو
تو فلسفہ نہیں،
فوراً طبی معائنہ ضروری ہے۔
اختتامیہ
دائمی سر درد
سر کی بیماری نہیں،
زندگی کے بے توازن ہونے کا اعلان ہے۔
جب انسان
اپنے اندر کی آواز سن لیتا ہے
تو اکثر
سر خود بخود خاموش ہو جاتا ہے۔
✍︎ 𝐖𝐫𝐢𝐭𝐭𝐞𝐧 𝐛𝐲 𝐃𝐫. 𝐉𝐚𝐚𝐰𝐚𝐝 𝐁𝐡𝐚𝐭𝐭𝐢
𝐇𝐨𝐦𝐨𝐞𝐨𝐩𝐚𝐭𝐡𝐢𝐜 𝐏𝐡𝐲𝐬𝐢𝐜𝐢𝐚𝐧
𝑊𝓇𝒾𝓉𝒾𝓃𝓰 𝑜𝓃 𝐸𝓂𝑜𝓉𝒾𝑜𝓃𝒶𝓁 𝐻𝑒𝒶𝓁𝓉𝒽,
𝐻𝑜𝓂𝑜𝑒𝑜𝓅𝒶𝓉𝒽𝓎 & 𝑀𝑒𝒹𝒾𝒸𝒶𝓁 𝒫𝒽𝒾𝓁𝑜𝓈𝑜𝓅𝒽𝓎
𓂀 𝑨𝒚𝒂𝒏 𝑯𝒐𝒎𝒐𝒆𝒐𝒑𝒂𝒕𝒉𝒊𝒄 𝑪𝒍𝒊𝒏𝒊𝒄, 𝑩𝒖𝒓𝒆𝒘𝒂𝒍𝒂



Comments
Post a Comment