Fungus فنگس
بسم اللہ الرحمٰن الرحیم
فنگس — جلد پر لکھی ہوئی باطن کی داستان
تحریر و تحقیقئ
ڈاکٹر جواد بھٹی
ہومیوپیتھک فزیشن
آیان ہومیوپیتھک کلینک
بورے والا
بیماری بطور پیغام
فنگس کو اگر صرف خوردبین کے نیچے دیکھا جائے
تو یہ ایک معمولی سا جرثومہ محسوس ہوتی ہے،
مگر اگر اسے انسان کے پورے وجود کے آئینے میں رکھا جائے
تو یہ ایک باطنی پیغام بن جاتی ہے۔
ہومیوپیتھی کے نزدیک بیماری کوئی حادثہ نہیں،
بلکہ جسم کی وہ زبان ہے
جو الفاظ میں بولنے سے قاصر ہو
تو علامتوں میں گفتگو کرتی ہے۔
جلد جسم کی وہ تختی ہے
جس پر اندر کی تحریر لکھی جاتی ہے،
اور فنگس
اسی تحریر کا ایک واضح، تکلیف دہ مگر سچا لفظ ہے۔
1. فنگس کی حقیقت — جرثومہ یا علامت؟
فنگس ایسے خوردبینی جاندار ہیں
جو ہمارے اردگرد ہر جگہ موجود ہوتے ہیں۔
سوال یہ نہیں کہ فنگس کہاں سے آئی،
اصل سوال یہ ہے
کہ اسے جسم میں پنپنے کی اجازت کیوں ملی؟
جب مدافعت کمزور ہو جائے،
جب جسم کا اندرونی نظم بکھر جائے،
جب پسینہ محض پانی نہ رہے
بلکہ کمزوری بن جائے،
تو فنگس کو جگہ مل جاتی ہے۔
یوں فنگس ایک بیماری نہیں رہتی
بلکہ اندرونی عدمِ توازن کا اعلان بن جاتی ہے۔
2. جلد — جسم کی سب سے بڑی گواہ
جلد کو اکثر محض کھال سمجھ لیا جاتا ہے،
حالانکہ یہ جسم کا سب سے بڑا
اور سب سے حساس عضو ہے۔
یہ خوف میں پسینہ چھوڑتی ہے،
بخار میں جلتی ہے،
اور بیماری میں نشان بناتی ہے۔
جب اندر کی بیماری کو باہر آنے کا راستہ چاہیے
تو جلد وہ راستہ بن جاتی ہے۔
فنگس اسی راستے کا نام ہے۔
3. فنگس کی اقسام — بیماری کی مختلف آوازیں
(الف) جلدی فنگس — دائروں میں قید تکلیف
داد، کھجلی اور ایتھلیٹس فٹ
ایسی فنگس ہیں
جو جلد پر گول دائرے بناتی ہیں،
جیسے مسئلہ حل ہونے کے بجائے
بار بار خود کو دہرا رہا ہو۔
یہ عموماً رانوں، کولہوں، بغلوں اور پیٹ میں
وہاں ظاہر ہوتی ہیں
جہاں نمی قید اور ہوا محدود ہو جاتی ہے۔
(ب) ناخنوں کی فنگس — خاموش بدصورتی
ناخنوں کی فنگس
کم بولتی ہے مگر دیر تک ساتھ رہتی ہے۔
ناخن پیلے پڑ جاتے ہیں،
موٹے اور بے جان ہو جاتے ہیں،
اور مریض آئینے سے نظریں چرانے لگتا ہے۔
یہ فنگس بتاتی ہے
کہ بیماری صرف درد نہیں
بلکہ شخصیت پر اثر بھی ڈالتی ہے۔
(ج) سر اور بالوں کی فنگس — شناخت پر حملہ
سر کی فنگس
بالوں کے ساتھ ساتھ
خود اعتمادی کو بھی نشانہ بناتی ہے۔
گول دھبے،
شدید خارش،
اور بالوں کا جھڑنا
یہ سب ظاہری نہیں
بلکہ نفسیاتی زخم بھی ہیں۔
(د) کینڈیڈا (Candida albicans) — اندرونی کمزوری کی صدا
کینڈیڈا (Candida albicans) فنگس کی وہ قسم ہے
جو اکثر جسم کے اندر پہلے سے موجود ہوتی ہے۔
یہ منہ، زبان، گلا، آنتوں
اور خواتین میں تولیدی نظام میں پائی جاتی ہے۔
جب مدافعت کمزور ہو،
شوگر بے قابو ہو،
اینٹی بایوٹکس یا سٹیرائیڈز کا استعمال بڑھے،
تو کینڈیڈا (Candida albicans)
خاموش رہنے کے بجائے بیماری بن جاتی ہے۔
یہ فنگس
اندرونی نظامِ ہاضمہ اور مدافعت
کی کمزوری کا اعلان ہے۔
4. علامات — جسم کی زبان
فنگس کی ہر علامت
ایک مکمل جملہ ہے:
خارش کہتی ہے: کہیں توازن بگڑ گیا ہے
جلن کہتی ہے: اندر آگ لگی ہوئی ہے
چھلکے اترنا کہتا ہے: پرانا نظام ٹوٹ رہا ہے
بدبو کہتی ہے: صفائی سے زیادہ اصلاح درکار ہے
ہومیوپیتھی ان جملوں کو سنتی ہے،
انہیں دباتی نہیں۔
5. فنگس کی وجوہات — ایک مجموعی خرابی
فنگس کبھی ایک وجہ سے پیدا نہیں ہوتی۔
یہ پسینے،
نمی،
تنگ اور مصنوعی لباس،
شوگر،
بار بار اینٹی بایوٹکس،
سٹیرائیڈ کریموں،
اور طرزِ زندگی کی غفلت
سب کا مجموعہ ہوتی ہے۔
جلد صرف اظہار کرتی ہے،
اصل خرابی اندر ہوتی ہے۔
6. ایلوپیتھک طریقۂ علاج — دباؤ کا فلسفہ
ایلوپیتھی فنگس کو دشمن سمجھ کر دباتی ہے۔
کریم لگاؤ،
خارش ختم،
نشان مدھم،
مگر اندر
وہی کمزوری باقی۔
چند ہفتوں یا مہینوں بعد
مرض زیادہ شدت سے واپس۔
یہ علاج نہیں،
یہ بیماری کو مؤخر کرنا ہے۔
7. ہومیوپیتھک فلسفۂ علاج — سمجھنے کا ہنر
ہومیوپیتھی فنگس کو
عموماً Psora اور Sycosis
کی علامت سمجھتی ہے۔
اصول واضح ہے:
جب اندرونی نظام درست ہوگا
تو جلد خود ٹھیک ہو جائے گی۔
ہومیوپیتھک دوا
جرثومے پر نہیں
بلکہ جسم کی قوتِ مدافعت پر کام کرتی ہے۔
جب جسم مضبوط ہوتا ہے
تو فنگس کمزور ہو جاتی ہے۔
8. فنگس میں اہم ہومیوپیتھک ادویات
Tellurium
گول دائروں میں پھیلنے والی فنگس،
شدید خارش اور بدبو کے ساتھ،
خاص طور پر داد میں نمایاں۔
Sulphur
بار بار لوٹ آنے والی فنگس،
گرمی اور بستر میں خارش،
اہم دستوری دوا۔
Sepia
پرانی، ضدی فنگس،
پسینہ زیادہ،
خواتین میں خاص مفید۔
Graphites
رسنے والی فنگس،
چپچپا اخراج،
پھٹی ہوئی جلد۔
Antimonium Crudum
ناخنوں کی فنگس،
موٹی سفید تہہ،
بدشکل ناخن۔
Thuja
دبی ہوئی فنگس،
سٹیرائیڈ کے بعد بگڑا مرض۔
Petroleum
شدید خشکی،
پھٹنا اور خون آنا،
سردیوں میں شدت۔
9. بیرونی معاون علاج — سہارا، حل نہیں
Calendula Q
10 قطرے آدھا کپ پانی میں، دن میں 1–2 بار صفائی کے لیے
Borax Q
منہ اور کینڈیڈا (Candida albicans) میں مفید
یاد رہے:
بیرونی علاج
اندرونی اصلاح کے بغیر
ادھورا رہتا ہے۔
10. غذا اور طرزِ زندگی — دوا کا خاموش حصہ
میٹھا کم کیے بغیر
شوگر قابو میں نہیں آتی،
اور شوگر قابو میں آئے بغیر
فنگس نہیں جاتی۔
خشکی، صفائی اور سادگی
دوائی کے ہم سفر ہیں۔
اختتامیہ: بیماری سے مکالمہ
فنگس سے لڑنے کے بجائے
اسے سمجھنا سیکھیں۔
یہ بتاتی ہے
کہ کہاں حد سے تجاوز ہوا،
کہاں فطرت کو نظرانداز کیا گیا،
اور کہاں جسم مدد مانگ رہا ہے۔
ہومیوپیتھی
اسی مکالمے کا نام ہے،
دبانے کا نہیں
سمجھنے کا علاج۔
تحریر و تحقیق
ڈاکٹر جواد بھٹی
ہومیوپیتھک فزیشن
آیان ہومیوپیتھک کلینک
بورے والا



❤️
ReplyDelete