Systemic Lupus Erythematosus – SLE)
سسٹمک لیوپس (Systemic Lupus Erythematosus – SLE)
تحریر: ڈاکٹر جواد بھٹی
ہومیوپیتھک فلسفہ اور علاج کا نقطہ نظر
سسٹمک لیوپس کا مطلب اور معنی:
سسٹمک لیوپس ایک آٹو ایمیون بیماری ہے، جس کا نام دو حصوں پر مشتمل ہے:
Systemic یعنی یہ بیماری جسم کے ایک محدود حصے تک نہیں بلکہ پورے جسم کے مختلف اعضاء اور نظاموں پر اثر ڈالتی ہے۔
Lupus لاطینی لفظ ہے جس کا مطلب ہے “بھیڑیا” اور یہ اس بیماری کے جلد پر نمودار ہونے والے داغوں کے نمونے کی وجہ سے رکھا گیا، جو کبھی کبھار گالوں پر پروں کی شکل کے داغ کی مانند ظاہر ہوتے ہیں۔
یوں، سسٹمک لیوپس ایک ایسا مرض ہے جہاں جسم کا مدافعتی نظام، جو قدرتی طور پر جسم کو بچانے کے لیے بنایا گیا، اپنے ہی اعضاء پر حملہ کر دیتا ہے اور جسمانی، ذہنی اور جذباتی سطح پر اثر چھوڑتا ہے۔
زندگی ایک نازک توازن ہے، جہاں ہر خلیہ، ہر بافت اور ہر عضو ایک مخصوص تال پر رقص کرتا ہے۔
جب یہ ہم آہنگی بگڑ جاتی ہے، تو مدافعتی نظام اپنی ہی بافتوں پر حملہ آور ہو جاتا ہے۔
سسٹمک لیوپس ہمیں یہ یاد دلاتی ہے کہ وجود کی ہر چھوٹی حرکت اور ہر لمحہ حساس توازن کا متقاضی ہے۔
اسباب اور محرکات
سسٹمک لیوپس کے اسباب اکثر چھپے ہوئے ہوتے ہیں، جیسے رات کے سناٹے میں روشنی کا عکس:
جینیاتی پہلو: خاندان کی خاموش کہانی جو مدافعتی نظام کو حساس بنا دیتی ہے۔ بعض جینز میں چھپی وہ قوت جو اپنی حفاظت کو نقصان میں بدل دیتی ہے۔
ماحولیاتی عوامل: سورج کی روشنی، انفیکشن، اور بعض ادویات۔ یہ کبھی کبھار زندگی کی روشنی کو چبھتے ہوئے زخم میں بدل دیتے ہیں۔
ہارمونی اور جذباتی اثرات: زیادہ تر خواتین متاثر ہوتی ہیں، خاص طور پر نوجوان اور درمیانی عمر میں۔ ذہنی دباؤ، طویل تھکن اور جذباتی صدمہ بیماری کی شدت میں اضافہ کرتے ہیں۔
علامات اور نشانات
سسٹمک لیوپس علامات کے ذریعے اپنے وجود کا پیغام بھیجتا ہے، جو ہر مریض میں منفرد ہوتا ہے:
جلد پر داغ اور سرخی جو چہرے پر ایک خاموش انتباہ کی مانند نمودار ہوتے ہیں۔
جوڑوں میں درد اور سوجن، جسم کی وہ سرگوشیاں جو اپنی موجودگی کی نشاندہی کرتی ہیں۔
گردوں، دل اور پھیپھڑوں میں اثرات جو یہ بتاتے ہیں کہ ہر عضو ایک چھوٹا سا کائنات ہے۔
دماغ اور جذبات میں اثرات: یادداشت میں کمی، موڈ کی تبدیلی، اندرونی بےچینی۔
عام علامات: تھکن، کمزوری، بالوں کا جھڑنا، زبان یا ناک کے چھوٹے زخم — یہ سب جسم کے اندرونی نظام کی گہرائیوں سے آنے والے اشارے ہیں۔
تشخیص
سسٹمک لیوپس کی تشخیص ایک حساس اور محتاط سفر ہے:
خون کے ٹیسٹ: ANA (Antinuclear Antibodies)، dsDNA، جو مدافعتی نظام کے پوشیدہ راز کھولتے ہیں۔
گردے اور دیگر اعضاء کی جانچ: یورین ٹیسٹ، گردے کا بایوپسی، دل اور پھیپھڑوں کی حالت دیکھنا۔
علامات کی باریک بینی: جسمانی اور جذباتی کیفیت کی گہرائی میں جانا، مریض کی زندگی کے چھوٹے چھوٹے پہلوؤں کی سمجھ۔
علاج: جدید اور ہومیوپیتھک نقطہ نظر
جدید دوائیں علامات کو کنٹرول کرتی ہیں: Corticosteroids، Immunosuppressants، NSAIDs۔
یہ درد اور سوجن کو کم کرتی ہیں، مگر بیماری کی اندرونی حکمت اور جسم کے پیغامات کو نہیں چھو سکتیں۔
ہومیوپیتھی میں علاج کا محور مریض کی مجموعی حالت، جسمانی اور جذباتی کیفیت ہے۔
جلد پر داغ اور زخم: Arsenicum Album, Mezereum
جوڑوں میں درد اور سوجن: Rhus Toxicodendron, Bryonia
تھکن اور کمزوری: Phosphorus, Gelsemium
ذہنی دباؤ اور صدمہ: Ignatia Amara, Natrum Muriaticum
یہ ادویات جسم کو سکون دیتی ہیں، مدافعتی نظام کو ہم آہنگ کرتی ہیں، اور روحانی سطح پر بھی تسکین فراہم کرتی ہیں، تاکہ وجود اپنی قدرتی ہم آہنگی واپس حاصل کر سکے۔
زندگی کے اصول
سورج سے بچاؤ اور مناسب تحفظ
متوازن غذا: سبزیاں، پھل، اومیگا 3
ذہنی سکون: مراقبہ، یوگا، ہلکی ورزش
نیند کی اہمیت: 7–8 گھنٹے
مدافعتی نظام کو تقویت دینا: ہومیوپیتھک علاج کے ساتھ آرام
سسٹمک لیوپس ایک چیلنج ہے، مگر ہر لمحہ ایک سبق بھی ہے۔
یہ بیماری ہمیں یاد دلاتی ہے کہ وجود کا ہر حصہ ایک ہم آہنگ نظام ہے اور ہر درد، تھکن یا داغ ایک پیغام ہے، جو ہمیں اپنی زندگی کے توازن کی یاد دلاتا ہے۔
ہر زخم کی گہرائی میں، زندگی کا نازک توازن چھپا ہے۔
ہر تکلیف کی گونج میں، وجود کی فطرت کی زبان ہے۔
تحریر و تحقیق:
Dr. Jawaad Bhatti
Homoeopathic Physician



Comments
Post a Comment