Ceanothus americanus: When Liver Disease Extends to Blood and Spleen
Ceanothus americanus: جب جگر کی بیماری خون اور طحال تک اتر جائے گزشتہ تحریروں میں ہم نے Carduus marianus کا ذکر کیا تھا— وہ دوا جو جگر کی اس خاموش کمزوری کی نمائندہ ہے جہاں خلیے تھک جاتے ہیں مگر بیماری ابھی اعلان نہیں کرتی۔ Carduus وہاں کام کرتی ہے جہاں جگر بوجھ تو محسوس کرتا ہے مگر ابھی درد کی زبان نہیں بولتا۔ اس کے بعد ہم نے Chelidonium majus کو بیان کیا— وہ دوا جو جگر اور پتّے کی اس حالت میں سامنے آتی ہے جہاں خاموشی ختم ہو جاتی ہے اور درد، صفرا کی رکاوٹ اور یرقان جسم کا واضح پیغام بن جاتے ہیں۔ آج گفتگو اس دوا پر ہے جو جگر کی حد سے آگے بڑھ کر خون اور طحال (Spleen) کے نظام میں داخل ہو جاتی ہے اور بیماری کی گہرائی کو بے نقاب کر دیتی ہے۔ یہ دوا ہے: Ceanothus americanus Ceanothus americanus: جگر، طحال اور خون کی مشترکہ دوا Ceanothus اس مرحلے کی دوا ہے جہاں جگر کی خرابی صرف ہاضمے، صفرا یا درد تک محدود نہیں رہتی بلکہ خون کی کیفیت بگڑنے لگتی ہے اور طحال اس بگاڑ کا بوجھ اٹھانے لگتا ہے۔ یہ وہ کیفیت ہے جہاں مریض زیادہ شکایت نہیں کرتا لیکن جسم کی توانائی ختم ہو چکی ہوتی ہے۔ یہ بیماری چیختی نہیں...



.png)





